ایک نیوز:صحت،تعلیم اور سماجی تحفظ پر 2 سالوں میں 637 ارب سے زائد خرچ کئے گئے ،وفاق کے یہ اخراجات 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کئے جا چکے، صحت، تعلیم، سماجی تحفظ پر ہونے والے اخراجات کی تفصیل جاری کر دی گئی ۔
وزارت خزانہ نے مالی سال سال 2023,24 کے اخراجات کا ڈیٹا جاری کیا، اخراجات وفاق نے کیے جو صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں،2010میں اٹھارہویں ترمیم کے تحت منظور کردہ معاملات صوبائی دائرہ اختیار میں دے دیے گئے تھے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ترمیم کے تحت صوبوں کو مالی اور قانون سازی کی سطح پر خودمختاری دی گئی،مالی سال 24-2023 میں وفاق نے سماجی تحفظ پر 478 ارب سے زائد خرچ کئے،سماجی تحفظ کے تحت بی آئی ایس پی او بیت المال کے زریعے رقم خرچ کی،بی آئی ای پی کیلئے گرانٹس کی مد میں 2023,34 کے دوران 466 ارب روپے رکھے گئے،پروگرام کفالت کے تحت 358.033 ارب روپے کی غیر مشروط مالی امداد دی گئی۔
بیت المال کے ذریعے سماجی تحفظ پر وفاقی حکومت کا خرچ 4.2 ارب روپے رہا،سال 2023,24 کے دوران تعلیم پر مجموعی خرچ 114 ارب روپے رہا،تعلیمی اخراجات میں موجودہ اخراجات اور گرانٹس دونوں شامل ہیں،تعلیم کی مد سب سے زیادہ رقم ایچ ای سی 68.5 ارب گرانٹ کی مد میں دی گئی۔
ملازمین اور آپریشنل اخراجات کے لیے 1.3 ارب روپے مختص کیے گئے، 24-2023 میں صحت کے شعبے کے لئے پر 24.2 ارب روپے مختص کیے گئے،صحت کے شعبہ میں 9.6 ارب روپے ملازمین سے متعلقہ اخراجات شامل تھے،صحت کے شعبہ میں ہی 14.6 ارب روپے آپریشنل اخراجات کے شامل تھے۔
ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن کے لیے 21.3 ارب روپے خرچ کیے گئے،بچوں کو ویکسین کے ذریعے بیماریوں سے بچاؤ کا یہ پروگرام 1978 سے جاری ہے۔