مریم نواز کا ڈی ایچ کیو پاکپتن کا دورہ،ڈپٹی کمشنر کو چارج چھوڑنے کا حکم دیدیا

ہسپتال میں بدنظمی، غفلت اور دیگر شکایات کے انبار لگ گئے

۰۴-جولائی-۲۰۲۵

ویب ڈیسک:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکپتن ڈی ایچ کیو ہسپتال  میں مریضوں کی شکایت پر سخت کارروائی کرتے ہوئے سی او ہیلتھ پاکپتن اور ہسپتال  کے ایم ایس کیخلاف  مقدمہ درج کرکے دونوں کو گرفتار کرنے اور غفلت کے مرتکب دیگر کئی عہدیداروں کو معطل کرنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف وارڈز کا جائزہ لیا اور اس دوران مریضوں اور اہل خانہ نے ہسپتال میں بدنظمی، غفلت اور دیگر شکایات کے انبار لگا دیئے۔

مریضوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو بتایا کہ ادویات موجود ہونے کے باوجود فارمیسی سے گٹھ جوڑ کرکے دوائیاں باہر سے منگوائی جارہی تھیں، اس موقع پر ایم ایس اور دیگر ذمہ داروں نے حقائق کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مریضوں کی شکایات کی روشنی میں سخت کارروائی کرتے ہوئے سی او ہیلتھ پاکپتن ڈاکٹر سہیل اصغر اور ایم ایس ڈاکٹر عدنان غفار کیخلاف  مجرمانہ غفلت پر مقدمہ درج کرنے اور گرفتار کرنے کی ہدایت کی،جبکہ ساہیوال سے نئے ایم ایس کو ڈی ایچ کیو ہسپتال  پاکپتن تعینات کردیا گیا۔

مریضوں نے بتایا کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے 50 روپے اور 100 روپے پارکنگ فیس لی جاتی ہے، اوور چارجنگ کی شکایت پر وزیراعلیٰ نے پارکنگ کمپنی کے مالک اور انچارج کی گرفتاری کی ہدایت کی۔ 

ہسپتال  میں پرائیویٹ لیب سے ملی بھگت کرنے پر 3لیب ٹیکنیشن برطرف، پاکپتن ہسپتال  کےعملے سے ملی بھگت پر 3پرائیویٹ لیب بھی سیل کردی گئیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس موقع پر ڈی سی پاکپتن کو چارج چھوڑنے اور ہسپتال  کے آلات کے آڈٹ کا حکم دیا۔

اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ ذمہ داروں کو احساس دلانے کے لیے سخت فیصلے ضروری ہیں۔   

دفاتر میں اے سی چلنے، وارڈز اور مریضوں کے اے سی بند ہونے پر بھی وزیراعلیٰ نے اظہار برہمی کیا، سٹور میں موجود ہونے کے باوجود ادویات نہ ملنے پر بھی سخت سرزنش کی اور سرکاری  ہسپتالوں  میں کوڈ ریڈ اور کوڈ بلیو سسٹم نافذ کرنے کا حکم دیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہسپتالوں   میں دوران ڈیوٹی ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف کے موبائل استعمال پر پابندی کے لیے اقدامات کی ہدایت کردی ہے۔

مریم نواز نے ہسپتالوں   میں رابطے کیلئے  پیجر سسٹم نافذ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام انکوائریز کے فیصلے ایک ہفتے کے اندر کیے جائیں۔

اس دوران وزیراعلیٰ نے  ہسپتال  کے مختلف وارڈز، اسٹور اور لیب کا معائنہ کیا اور وارڈز میں زیر علاج مریضوں کے پاس جا کر فرداً فرداً مزاج پرسی کی، مریم نواز نے ہسپتال کی انتظار گاہ میں بیٹھے مریضوں اور اہل خانہ سے بات چیت کرکے ادویات کی فراہمی اور علاج کے بارے میں دریافت کیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اسٹور میں دوائیاں موجود ہیں اور پرچی پر لکھ کر میڈیسن باہر سے منگوائی جاتی ہیں، 100 ارب روپے میڈیسن کے لیے دے رہے ہیں، عوام کو دوائی کیوں نہیں مل رہی ہے؟۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی ایچ کیو اسپتال میں مفت ادویات کے لیے اعلان نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کوشش کریں توحالات کا پتا چل سکتا ہے، ہسپتال کے ایک راؤنڈ میں صورت حال سامنے آگئی۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ کیو میں 90 فیصد مریض باہر سے ادویات منگوانے کی شکایت کر رہے ہیں، درکار مشینری اور آلات پیک پڑے ہوئے ہیں لیکن استعمال میں نہیں لائے جاتے۔

مریم نواز نے کہا کہ ہسپتالوں  اور اداروں میں کام نہ کرنے والے قوم کے اصل ملزم ہیں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی نہیں بلکہ خدمت کے احساس کا فقدان ہے، کیا لوگ  ہسپتالوں   میں مرنے کے لیے آتے ہیں، مجرمانہ غفلت پراللہ تعالیٰ کو بھی جواب دینا ہوگا، مجھ سے بچ سکتے ہیں لیکن اللہ کی پکڑ سے کیسے بچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دوسروں کے بچوں کو اپنی نظر سے دیکھنا سیکھیں، قتل کرنے کے لیے ہتھیار ضروری نہیں ہوتے، مجرمانہ غفلت بھی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔