وزیراعظم کی ہدایت، بجلی صارفین کیلئے پروٹیکٹڈ کیٹگری میں تبدیلی پر غور

حکومت پروٹیکٹڈ کیٹگری کی حد 200 یونٹس سے بڑھا کر 301 یونٹس تک کرنے پر غور کر رہی ہے

۰۸-اگست-۲۰۲۵

ویب ڈیسک:وزیراعظم محمد  شہباز شریف نے بجلی کے پروٹیکٹڈ صارفین سے متعلق بڑھتی ہوئی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔

 ذرائع کے مطابق کمیٹی پروٹیکٹڈ کیٹگری کے موجودہ معیار اور اس سے جڑے مسائل کا مکمل تجزیہ کرے گی، تاکہ کم آمدنی والے صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

موجودہ نظام کے تحت وہ صارفین جو 201 یونٹ بجلی استعمال کر لیتے ہیں، فوری طور پر پروٹیکٹڈ کیٹگری سے خارج کر دیئے جاتے ہیں اور اگلے 6ماہ تک تقریباً 5 ہزار روپے اضافی ماہانہ بل ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اس پالیسی کے باعث معمولی حد سے تجاوز کرنے والے صارفین پر بھی بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پروٹیکٹڈ کیٹگری کی حد 200 یونٹس سے بڑھا کر 301 یونٹس تک کرنے پر غور کر رہی ہے، اس تجویز کا مقصد اُن صارفین کو بچانا ہے جو محض چند اضافی یونٹس کے باعث بھاری بلوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔

اراکین اسمبلی نے بھی مؤقف اپنایا ہے کہ 200 یونٹس سے صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے پر 6ماہ تک اضافی بل وصول کرنا عوام سے زیادتی ہے، کمیٹی اپنی سفارشات کابینہ کے سامنے پیش کرے گی، اور ان تجاویز کی منظوری کے بعد امید ہے کہ کم آمدنی والے گھرانوں کو حقیقی ریلیف میسر آئے گا۔

وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق موجودہ 201 یونٹ والی سلیب نیپرا اور پاور ڈویژن کی جانب سے جان بوجھ کر نافذ کی گئی تھی، تاہم موجودہ حکومت اس پالیسی پر نظرِ ثانی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے جا رہی ہے۔