ایک نیوز:امریکا اوربھارت کے درمیان سفارتی تناؤ کی وجوہات امریکی جریدہ بلوم برگ کی رپوٹ سامنے لے آئی۔
امریکی جریدے کی رپوٹ کے مطابق بھارت نے ٹرمپ کے جنگ بندی دعوے کو مسترد کر دیا، مودی نے کہا بھارت کبھی ثالثی قبول نہیں کرے گا، مئی میں پاک بھارت جنگ بندی کے بعد بھارت اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی، مودی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کو خدشہ تھا کہ امریکی صدر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات نہ کرا دیں، مودی نے 17جون کو امریکی صدر کی کھانے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا، 17جون کو امریکی صدر اور مودی کی 35 منٹ ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، 35منٹ کی گفتگو ہی امریکا اور بھارت کے تعلقات کے درمیان ٹرننگ پوائنٹ بنی، تناؤ بھری گفتگو کے بعد ہی امریکا اور بھارت تعلقات میں تلخی آنا شروع ہوئی۔
امریکی جریدہ کی رپورٹ کے مطابق جون میں مودی کے ساتھ فون کال کے بعد ٹرمپ نے بھارت پر کھلے عام تنقید شروع کر دی ،تناؤ کی جھلک اس وقت بھی سامنے آئی جب ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو مردہ کہا، امریکی صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50فیصد ٹیرف بھی عائد کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جون میں مودی کے ساتھ فون کال کے بعد ٹرمپ نے بھارت پر کھلے عام تنقید شروع کر دی، ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا، ٹرمپ نے بھارت کو مردہ معیشت اور ناقابلِ برداشت تجارتی رکاوٹوں کا حامل ملک قرار دیا۔