ویب ڈیسک:بھارت کی ریاست کیرالہ کے گروایور سری کرشنا مندر میں ایک مسلمان انفلوئنسر کے داخلے اور وہاں ایک انسٹاگرام ریل بنانے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
انفلوئنسر جاسمین جعفر نے مندر کے تالاب میں پاؤں ڈبو کر ریل بنائی تھی، جسے مندر کے عقیدت مندوں نے مذہبی جذبات کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس واقعے کے بعد، مندر کو 6 دن تک ’پاک‘ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں 18 خصوصی پوجائیں اور جلوس شامل ہوں گے۔
واضح رہے کہ جاسمین جعفر نے عوامی دباؤ کے بعد معافی بھی مانگ لی ہے اور اسے لاعلمی کا نتیجہ قرار دیا۔