ویب ڈیسک:بھارتی سپریم کورٹ نے مکیش امبانی کے بیٹے اننت امبانی کی زیرِنگرانی ذاتی چڑیا گھر "ونتارا" میں مبینہ غیر قانونی جانوروں کی درآمدگی اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم سامنے دیدیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس چڑیا گھرکو دنیا کا سب سے بڑا "وائلڈ اینیمل ریسکیو سینٹر" قرار دیا جاتا رہا ہےجو کہ گجرات میں ریلائنس کے آئل ریفائنری کمپلیکس کے قریب بنایا گیا ہے۔
انڈیا کی سینٹرل زو اتھارٹی نے بتایا کہ اس جگہ پر تقریباً 200 ہاتھی، 50 ریچھ، 160 شیر، 200 شیرِ بنگال، 250 تیندوے اور 900 مگرمچھ سمیت ہزاروں نایاب اور خطرے سے دوچار جانور رکھے گئے ہیں۔
رپورٹ سامنے آئی ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے اس منصوبے پر شدید تنقید کی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں خطرناک اور نایاب جانوروں کو ریفائنری کے قریب خشک اور تیز گرم زمین پر قید کرنا جنگلی حیات کی آزادی کے خلاف ہے۔
اس حوالے سے مزید کار کنوں کا کہنا ہے کہ ان جانوروں کو دوبارہ قدرتی ماحول میں واپس چھوڑنے کا کوئی منصوبہ بھی سامنے نہیں آیا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ اس نے ریٹائرڈ ججوں کی سربراہی میں ایک پینل تشکیل دیا گیا ہے جو اس بات کی حقیقت کو سامنے لائے گی کہ جانوروں کو کس طرح غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا۔
یہ کیس اس لیے بھی عوام کی نظروں میں ہے کہ ’’ونتارا ‘‘کو اننت امبانی کی شادی کے بعد بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج ملی تھی، جب اسے بھارت میں "عالمی معیار کا وائلڈ لائف پراجیکٹ" قرار دیا گیا تھا، تاہم اب یہ منصوبہ قانونی جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔