ریسائیکل شدہ بوتلیں،خاموش زہر

بانجھ پن،بچوں میں نشوونما کی سستی اور ذیابیطس جیسے امراض ہو سکتے ہیں

۰۱-ستمبر-۲۰۲۵

ویب ڈیسک:مارکیٹ میں پانی زیادہ تر 80 فیصد تک بوتلوں میں دستیاب ہوتا ہے،اس پانی میں پلاسٹک کے ذرات اور کیمیکلز پوشیدہ ہوتے ہیں،یہ پانی پینا ہمارے لئے زہر پینے کے مترادف ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بند بوتلوں میں موجود پانی یہ سمجھ کر پینا کہ یہ فیلٹرڈ ہے تو آپ غلطی پر ہیں کیونکہ سرطان، بانجھ پن،بچوں میں نشوونما کی سستی اور ذیابیطس جیسے امراض ہماری بےبہا احتیاط کے باوجود ہو جانا اسی  پلاسٹک کی بوٹلز کی وجہ سے ہے،ان بیماریوں کا خطرہ اس وقت کئی گنا بڑھ جاتا ہے جب بوتلیں گرمی میں بند گاڑی میں چھوڑ دی جائیں اور ایئر کنڈیشنر بھی بند پڑا ہو۔

تحقیقات کے حساب سے معلوم ہوا ہے پلاسٹک کے ایک عام جزو"پولی ایتھلین ٹیریفتھالیٹ ”سے ایک زہریلا دھات"اینٹیمونی”اور خطرناک مادہ "بیسفینول اے ” پانی میں خارج ہو جاتا ہے،اس سے فوری طور پر سر درد، چکر، متلی اور پیٹ درد جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ طویل پھیپھڑوں کی سوزش اور معدے کے السر کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے،بیسفینول اے ‘‘سے سرطان،دل کی بیماریاں،آٹزم اور قبل از وقت موت جیسے خطرات سر پہ منڈلاتے رہتےہیں۔

جدید تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک پلاسٹک کی بوتل میں اوسطاً 2 لاکھ 40 ہزار ذرات موجود ہوتے ہیں جب کہ نل سے آنے والے پانی میں یہ مقدار محض 5.5 ذرات فی لیٹر پائی گئی،ایسے"نینو پلاسٹکس”خون اور دماغ کے خلیوں میں براہِ راست اپنے ساتھ"فتھالیٹس” جیسے کیمیکلز دماغ میں  لے جاتے ہیں،فتھالیٹس سے بچپن کی پیدائشی خرابیاں،سرطان،دماغی زوال،دمہ،بانجھ پن اور بچوں میں سیکھنے کی دشواریوں جیسی بیماریاں جڑی ہوئی ہیں۔