"کیا واقعی پاکستانی کرنسی سے 'حصولِ رزقِ حلال عین عبادت ہے' کا جملہ ہٹا دیا گیا؟"

ایسا اقدام ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک سوچ کو جنم دے سکتا ہے

۰۹-ستمبر-۲۰۲۵

ویب ڈیسک:گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر تیزی سے  بات وائرل ہو رہی ہے کہ پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر موجود جملے"حصولِ رزقِ حلال عین عبادت ہے"کو نئے نوٹوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اس خبر کے پھیلتے ہی صارفین اس پر شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر واقعی یہ جملہ ہٹا دیا گیا ہے تو اس کے   کیا پیچھے وجوہات ہیں؟

صارفین کی جاننب سے کی گئیں مختلف پوسٹس میں کہا جا رہا ہے کہ اس تبدیلی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ’’حلال اور حرام آمدنی کے درمیان فرق کو نظرانداز کیا جا رہا ہے‘‘۔

ایسا اقدام ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک سوچ کو جنم دے سکتا ہے، کچھ صارفین کا ماننا ہے کہ یہ جملہ نہ صرف اخلاقی بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ عام شہریوں کو یہ بات یا دلاتا رہتا ہے کہ جائز طریقے سے کمایا گیا رزق ہی اصل عبادت کے مترادف ہے۔

دوسری جانب، کچھ حلقےلوگوں کا ماننا یہ ہے کہ ایسے دعوؤں کو صرف سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس کی بنیاد پر درست تصور کر  لینا مناسب نہیں ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اس بات کی تصدیق کیلئے’’ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ‘‘یا متعلقہ حکومتی اداروں کے سرکاری مؤقف کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ آیا یہ سب افواہیں ہیں یا پھر ایسا کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

 ماضی میں بھی کئی بار ایسے افواہیں گردش کرتی رہی ہیں جنہیں بعد میں جھوٹا قرار دیا گیا،لہٰذا فی الحال یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا واقعی کرنسی نوٹوں سے یہ جملہ ہٹا دیا گیا ہے یا یہ صرف ایک بے بنیاد افواہ ہے؟