حالیہ مون سون کے باعث پنجاب ،سندھ اور خیبر پختونخواہ کے مقامی صحت کارکنان کو بااختیار بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں 2025 کے مون سون سیلاب نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا (کے پی کے)، پنجاب اور سندھ کو شدید متاثر کیا ہے، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے، دیہات زیر آب آ چکے ہیں، سڑکیں منقطع ہو چکی ہیں اور ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ گیا ہے،ایسے میں مقامی صحت کارکنان، بالخصوص لیڈی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی مڈوائفز اور ویکسینیٹرز، صحت کے بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف صفِ اول کا دفاع بن کر اُبھرے ہیں۔
یہ کارکنان اپنی کمیونٹی میں عوام کے اعتماد کی وجہ سے ایسے وقت میں ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں جب باضابطہ صحت نظام معطل یا محدود ہو جاتا ہے، وہ سب سے پہلے متاثرہ خاندانوں تک پہنچتے ہیں، ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہیں اور بنیادی سہولیات سے جوڑتے ہیں۔
ان کا کردار کئی جہتوں پر محیط ہے، یہ ڈائریا، ملیریا، جلدی امراض، سانس کی بیماریاں اور غذائی قلت کی ابتدائی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ بروقت اقدامات سے وبائیں پھیلنے سے روکی جا سکیں،وہ متاثرہ علاقوں میں زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال جاری رکھتے ہیں، حاملہ خواتین سے رابطہ، محفوظ ولادت کی رہنمائی، نوزائیدہ کی جانچ، ریفرل سروسز اور ویکسینیشن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بناتے ہیں،ان کی جانب سے فوری مگر مؤثر علاج جیسے او آر ایس، زنک گولیاں، ابتدائی طبی امداد اور بخار کا علاج، ان گنت قابلِ بچاؤ اموات کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔
اتنا ہی اہم ان کا کردار خطرات سے آگاہی اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ہے ،جیسے صاف پانی کا استعمال، بیت الخلا کی صفائی، کھانے کی حفاظت وغیرہ تاکہ آلودہ سیلابی پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔
ضروری ہے کہ ان کارکنان کو فوری اور منظم مدد فراہم کی جائے،جیسا کہ
- انہیں ہنگامی حالات میں کام کے لیے فوری تربیتی کورسز دیے جائیں۔
- واٹر، سینی ٹیشن اور ہائیجین (WASH)۔
- سرویلنس، ابتدائی نفسیاتی امداد۔
- ذاتی حفاظتی سامان جیسے ماسک، دستانے اور ربڑ کے جوتے۔
- ایمرجنسی میڈیکل کٹس (ORS، زنک، پیراسیٹامول، زخموں کی مرہم پٹی، ملیریا ٹیسٹ، کلورین کی گولیاں، صابن، صاف پانی کے برتن)۔
- موبائل فون، سولر چارجرز، سفر کے ذرائع،اور ان کی نگرانی، حوصلہ افزائی اور نفسیاتی مد د وغیرہ ۔
مزید یہ کہ انہیں مالی وظائف اور خطرات کے الاؤنس دیئے جائیں تاکہ ان کی خدمات کا اعتراف ہو اور ان کی وابستگی برقرار رہے، اکثر اوقات یہ کارکنان خود بھی متاثرین میں شامل ہوتے ہیں، اس لیے ان کے اہلِ خانہ کے تحفظ اور ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
متاثرہ علاقوں کیلئے مقامی صحت کارکنان کی موجودگی کا مطلب ہے:
- ڈائریا سے ہونے والی اموات میں کمی۔
- زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی خدمات کا تسلسل۔
- وباؤں کی جلد شناخت۔
- اور فوری ریلیف تک رسائی۔
یہ وہ خواتین ہیں جنہیں مقامی سطح پر عوام کا اعتماد حاصل ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں خواتین کی نقل و حرکت محدود ہوتی ہے یا مرد ڈاکٹروں تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔
ان کی موجودگی نہ صرف صحت کا نظام بحال رکھتی ہے بلکہ ہسپتالوں پر بوجھ بھی کم کرتی ہے۔
البتہ، ان پر حد سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا ضروری ہے،ان کا دائرہ کار واضح، مؤثر اور بنیادی خدمات تک محدود رکھا جائے، جسے ضلعی سطح پر ریفرل سسٹم اور معاونت حاصل ہو۔
2025 کے سیلاب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کمیونٹی ہیلتھ میں سرمایہ کاری اب کوئی آپشن نہیں بلکہ ہر آفت کے مؤثر ردعمل کیلئے بنیادی ستون ہے،اگر مقامی صحت کارکنان کو مناسب تربیت، وسائل، نگرانی اور مراعات فراہم کی جائیں تو وہ زندگی بچا سکتے ہیں، وباؤں کو روک سکتے ہیں اور انسانی وقار کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ،ان مشکل ترین حالات میں بھی۔
آج ان کارکنان کو مضبوط بنانا، کل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔
تحریر:کاشف شمیم صدیقی