سامعہ حجاب کی حسن زاہد کو معاف کرنے کی وجہ سامنے آ گئی

سوال کا جواب نہیں دیا جبکہ جلدی میں  عدالت سے روانہ ہوگئیں

۱۶-ستمبر-۲۰۲۵

ویب ڈیسک:ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ’’سامعہ حجاب‘‘ نے  اپنے ملزم زاہد کو معاف کرنے کے لیے  ڈیل کی ہے یا پھر معاملہ کچھ اور ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے ملزم حسن زئد کو اپنے مبینہ اغوا  کرنے اور  پھر دھمکیاں دینے  کے مقدمے میں ’’ اللّٰہ کی رضا کے لیے معاف  کر دیا‘‘،بیان کے بعد عدالت نے ملزم حسن زاہد کی ضمانت منظور کی ہے۔

مزید تفصیلات کے حساب سے سماعت کے بعد سامعہ حجاب کی جانب سے  صلح کرنے پر اور اس معافی کے حوالے سے صحافیوں کے کسی  ایک سوال کا جواب بھی  نہیں دیا جبکہ جلدی میں  عدالت سے روانہ ہوگئیں۔

ذرائع کے مطابق صحافی نے  سوال پوچھا کہ ’’آپ کی حسن زاہد سے کتنے کروڑ میں ڈیل ہوئی ہے؟ مگر ٹک ٹاکر نے اپنی چُپ نہ توڑی،تاہم ان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی،اس میں  ڈیل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’لوگ سوال کررہے ہیں میں نے ملزم حسن زاہد کو معاف کرنے کے کتنے پیسوں کی ڈیل کی اور کیا اب مجھے اس سے خطرہ ہے؟

سامعہ حجاب نے کہا کہ ’میں نے اپنے حق کیلئے آواز بلند کی تھی اور 75 فیصد عوام نے میرا ساتھ دیا، صرف 25 فیصد عوام ایسی ہے جو مجھے ہی تنقید کا نشانہ بنارہی ہے‘۔

ٹک ٹاکر نے معافی کی وجہ آخر بتا دی کہ ’حسن کے والدین نے میرے گھر آکر معافی مانگی ہے جس کی وجہ سے میں نے اسے معاف کردیا ہے‘۔

واضح رہے کہ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری عامر ضیاء نے کی تھی اور اس کیس کے سلسلے میں تفتیشی افسر محمد اسحاق عدالت کے روبرو پیش ہوئے  تھے۔

تفتیشی افسر محمد اسحاق نے  کہا کہ سامعہ حجاب نے ملزم کو معاف کردیا ہے، سامعہ کی جانب سے میں گواہی دیتا ہوں،جس کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ یا تو مدعیہ خود یا ان کی فیملی کا کوئی ممبر عدالت میں آکر بیان دے ،اس سب  کے بعد سماعت میں وقفہ کیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وقفے کے بعد ٹک ٹاکر سامعہ حجاب عدالت میں پیش ہوئیں اور انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا، اس کے بعد جج عامر ضیاء نے سامعہ حجاب سے استفسار کیا کہ کیا آپ کا معاملہ حل ہو گیا ہے؟ کیا اس کیس کی مزید پیروی کرنا چاہتی ہیں؟

سوال پر سامعہ حجاب نے بیان دیا کہ جی ہمارا معاملہ طے ہوگیا ہے اور میں اپنا کیس واپس لیتی ہوں،مجھے ملزم کی ضمانت اور بریت پر کوئی اعتراض نہیں۔

بعدا زاں عدالت نے 20 ہزار مچلکوں کے  بعد ہی  ملزم حسن زاہد کی ضمانت منظور کرلی۔