ایک نیوز:چیف آف دی آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب میں کہنا تھا کہ نئے قائم ہونے والے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں بنیادی تبدیلی تاریخی ہے ، بڑھتے اور بدلتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ہم ملٹی ڈومین آپریشنز کو تینوں افواج کے متحد نظام کے تحت مزید بہتر کریں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اس تبدیلی کی جانب ایک ضروری قدم ہے،ہر سروس اپنی آپریشنل تیاریوں کیلئے اپنی انفرادیت برقرار رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر سروسز کے آپریشن کو مربوط اور ہم آہنگ کرے گا، بالا کمانڈ کی یکجہتی کے ساتھ ساتھ تینوں افواج اپنی اندرونی خود مختاری اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کے اعزاز میں تقریب، گارڈ آف آنر پیش
فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ بھارت کسی خود فریبی یا گمان کا شکار نہ رہے ، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی برق رفتار اور شدید ہوگا،طالبان رجیم کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ان کے پاس فتنہ آل خوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم کسی کو بھی پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت پر آنچ اور ہمارے عزم کو آزمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام یہ جان لیں کہ پاکستان کا تصور ناقابل تسخیر ہے اور اس کی حفاظت ایمان سے سرشار جانبازوں اور متحد قوم کے پختہ عزم نے کر رکھی ہے ، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔