NCPS 2025: پاکستان میں کرپشن کے تاثر میں نمایاں کمی، شفافیت میں اہم پیش رفت


09 December 2025

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے (NCPS) 2025 جاری کردیا، جس میں پاکستان میں شفافیت میں اضافہ اور کرپشن کے تاثر میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ گزشتہ 12 ماہ میں انہیں کسی سرکاری خدمت کے لیے رشوت نہیں دینی پڑی، جبکہ ہر تین میں سے دو شہری روزمرہ سرکاری خدمات بغیر رشوت کے حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ معاشی صورتحال کے حوالے سے بھی عوامی رائے بہتر ہوئی ہے۔ تقریباً 60 فیصد شرکا کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے اور ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد حکومت معیشت کو مستحکم کرنے میں کامیاب رہی، جبکہ 43 فیصد نے قوتِ خرید میں بہتری اور 57 فیصد نے کمی کی نشاندہی کی۔

فلاحی اداروں سے متعلق عوام کی جانب سے زیادہ شفافیت اور ذمہ داری کا تقاضا بھی سامنے آیا ہے۔ 51 فیصد شرکا کے مطابق ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے والے اداروں کو عوام سے کوئی فیس نہیں لینی چاہیے، جبکہ 53 فیصد چاہتے ہیں کہ یہ ادارے اپنے ڈونرز اور عطیات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائیں۔ این سی پی ایس 2025 گزشتہ سال کی نسبت زیادہ وسیع پیمانے پر منعقد ہوا، جس میں 2023 کے 1600 شرکا کے مقابلے میں 2025 میں 4000 افراد نے حصہ لیا۔ شرکا میں 55 فیصد مرد، 43 فیصد خواتین اور 2 فیصد خواجہ سرا شامل تھے، جبکہ 59 فیصد شہری اور 41 فیصد دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ سروے 22 سے 29 ستمبر 2025 کے دوران کیا گیا۔

بدعنوانی کے ادارہ جاتی تاثر کے مطابق پولیس پہلے، ٹینڈر و پروکیورمنٹ دوسرے، عدلیہ تیسرے، بجلی و توانائی چوتھے اور صحت کا شعبہ پانچویں نمبر پر ہے۔ تاہم پولیس کے بارے میں عوامی رائے میں 6 فیصد بہتری دیکھی گئی، جو ادارہ جاتی اصلاحات کے مثبت نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔ تعلیم، زمین و جائیداد، لوکل گورنمنٹ اور ٹیکسیشن سے متعلق تاثر میں بھی بہتری سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق عوام بدعنوانی کی بنیادی وجوہات شفافیت کی کمی، معلومات تک محدود رسائی اور کرپشن کیسز کے فیصلوں میں تاخیر کو قرار دیتے ہیں، جبکہ 59 فیصد کے خیال میں صوبائی حکومتیں زیادہ بدعنوان سمجھی جاتی ہیں۔

کرپشن کے خاتمے کے لیے عوام نے احتساب مضبوط بنانے، صوابدیدی اختیارات کم کرنے، حقِ معلومات قوانین کو مؤثر بنانے اور عوامی خدمات کو ڈیجیٹلائز کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ 83 فیصد شرکا سیاسی جماعتوں کو بزنس فنڈنگ پر پابندی یا سخت ضابطہ کاری کے حق میں ہیں، جبکہ 42 فیصد موثر وہسل بلوئر تحفظ قوانین چاہتے ہیں۔ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 70 فیصد پاکستانی کسی بھی سرکاری کرپشن رپورٹنگ نظام سے ناواقف ہیں، جس سے آگاہی بڑھانے کی ضرورت ظاہر ہوتی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے واضح کیا کہ یہ سروے بدعنوانی کی اصل شرح نہیں بلکہ عوامی تاثر کی نمائندگی کرتا ہے، اور اس کا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی عالمی رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں۔

>