ایک نیوز:آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دن، مذاکرات کے دوسرے دن ؤر چوئیل مذاکرات ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی یہ طے ہونے ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد استنبول سے مذاکرات کرے گا یا واشنگٹن سے، گذشتہ روز آئی ایم ایف کی ٹیموں نے استنبول اور واشنگٹن سے ورچوئیل مذاکرات کئے تھے۔
آج آئی ایم ایف کے ساتھ ایف بی آر مزاکرات کی تین ادوارا ہوں گے، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے متعلقہ علیحدہ علیحدہ اجلاس ہوں گے، کسٹمز حکام کے ساتھ بھی مذاکرات ہوں گے،ایف بی آر کے ساتھ اجلاس میں 428 ارب روپے کے شارٹ فا ل پر بات چیت ہو گی۔
محصولات مین شارٹ فال پورا کرنے لئی حکمت عملی پربات چیت کرے گا،ایف بی آر میں ٹیکس نیٹ کے وسیع کرنے کے اقدامات پر گفتگو کی جائے گی، ایف بی آر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سے حاصل ہونے والے ریونیو سے آئئ ایم ایف کو آگاہ کرے گا۔
فروری تک حکومت نے پی ڈی ایل کی مد میں دوسو ارب روپے ہدف سے زیادہ اکٹھے کئے ہیں،ایف بی آر میں ٹیکس وصولیوں کے لئے ٹیکنالوجی کی استعمال پر بھی گفتگو ہو گی، کسٹمز کی طرف سے انفورسمنٹ کے ذریعے ریونیو وصولی بہتر کرنے پر بریفنگ دی جائے گی۔
کسٹمز حکام کی طرف سے سمگلنگ روکنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بات بریفنگ دی جائے گی،آئی ایم ایف اور معاشی ٹیم کے مذاکرات اب ورچوئلی جاری رہیں گے،آئی ایم ایف مشن نے 11 مارچ تک قیام کرنا تھا، علاقائی سیکیورٹی صورت حال کے باعث وفد کل اچانک قبل ازوقت روانہ ہوگیا ۔
گزشتہ روز مشن چیف ایوا پیٹرووا نے مذاکرات میں پائیدار اصلاحات پر زور دیا، گذشتہ روز سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی جانچ پر ورچوئل اجلاس منعقد ہوا،صوبائی ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے نظام میں بینکوں کی تربیت میں کمی کو رکاوٹ قراردیا گیا۔
سٹیٹ بینک اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ بینکوں کو تربیت دیں گے،ساورن ویلتھ فنڈ، ای پروکیورمنٹ اور نیب سے معلومات کے تبادلے سے متعلق اجلاس منسوخ ہو گیا،گزشتہ روز سرکاری کمپنیوں کے ساتھ ترجیحی سلوک ختم کرنے پر بھی بات چیت مؤخرکر دی گئی۔