کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی۔
انمول عرف پنکی نے مبینہ آڈیو میں کہا کہ ہم دھڑلے سے کام کررہےہیں،اٹھا سکتے ہوتو اٹھا لو،ہم نے پورے کراچی میں اندھیر ڈالا ہوا ہے، روک سکو تو روک لو۔
انمول عرف پنکی نےپولیس کو پیغام دیا کہ آپ لوگوں کی عقل گھٹنوں میں ہے،جس دن دماغ سےسوچو گے میری طرح "برینڈ" بن جاؤ گے،مجھے پکڑنے کے لیے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آجاتے ہیں، ر یٹا ئرمنٹ کے بعد فون کرکے بتاتے ہیں تمہیں نہیں پکڑپائے۔
دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملزمہ کی سہولت کاری کررہا ہے تو اس کیخلاف کارروائی ہوگی،یقین دہانی کراتی ہوں کہ ملزمہ کے سہولت کاروں کو نہیں چھوڑا جائےگا۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف ایکشن لینے والی ہوم کمیٹی کی ممبر ہوں،وزارت داخلہ سے بات کروں گی کہ پنکی کیس کی مکمل تفتیش ہونی چاہیے ، پنکی کیس میں جوبھی سہولت کار ہیں ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ ڈسٹرکٹ سٹی پولیس اور سول حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی ، شہر بھر میں کوکین اور دیگر مہلک نشہ سپلائی کرنے والی بدنامہ زمانہ انمول عرف پنکی کو گرفتارکرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزمہ پولیس کو انتہائی مطلوب اور درجنوں مقدمات میں مفرور تھی، ملزمہ کے قبضے سے پستول ، کروڑوں روپے مالیت کوکین کیمیکلز اور دیگر منشیات برآمد ہوا، ملزمہ کو سول حساس ادارے اور گارڈن پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمہ کراچی میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے ایک منظم اور وسیع نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی، ملزمہ کلفٹن اور ڈی ایچ اے سمیت شہر کے دیگر پوش علاقوں میں آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی۔
ملزمہ اپنے نیٹ ورک کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچانے کیلئے خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی ،ملزمہ کے خریداروں میں طلبہ و طالبات سمیت بڑی شخصیات شامل ہیں۔
ملزمہ یومیہ لاکھوں روپے مالیت کا نشہ مختلف طریقوں سے فروخت کرتی تھی،پولیس کا کہناہےکہ ملزمہ 10 مقدمات میں پولیس کےانتہائی مطلوب و مفرور تھی، ملزمہ کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔
انمول عرف پنکی کی بنا ہتھکڑی عدالت میں پیشی پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعہ کا نوٹس لے لیا، ملزمہ کی عدالت میں پیشی دیکھ کر حیران ہوں، تفتیشی آفسر اورمتعلقہ آفسر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔
انکشافات میں سامنے آیا ہے کہ منشیات ملکہ انمول عرف پنکی 2020 میں ڈیفنس تھانے میں ڈاکٹر ماہا قتل کیس میں ملزمہ تھی، ملزمہ کا آبائی تعلق قصور جبکہ کراچی میں رہائش جمشید کوارٹر میں تھی۔
انمول عرف پنکی کے خلاف 2021 اور 2022 میں گذری اور درخشاں میں 10 مقدمات درج ہیں ملزمہ اپنا نیٹ ورک چلانے کے لئے خواتین رائڈر کا استعمال کرتی تھی ۔
ملزمہ سے ڈرگ خریداروں میں طلبہ وطالبات اور بڑی شخصیات شامل ہیں ،ملزمہ 10 مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھی، عدالت نے پولیس کی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو جیل کسٹڈی کردیا۔