امریکی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی


۱۲-جولائی-۲۰۲۶

امریکا کی جانب سے ایران پر کئے جانے والے حملوں کے بعد تہران نے اعلان کیا ہے کہ امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔

 اس دوران ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچ گئے، جہاں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

امریکی فوج نے اتوار کو ایران پر نئے حملے کیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی۔

 امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایران نے ایک کنٹینر بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا جبکہ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ متعلقہ جہاز ممنوعہ بحری راستے سے گزر رہا تھا اور اسے پیشگی وارننگ بھی دی گئی تھی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والا ایم/وی جی ایف ایس گلیکسی نامی قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز تھا، جس کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا اور عملے کا ایک رکن لاپتا ہو گیا۔

 برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق عملے نے جہاز چھوڑ کر لائف بوٹ کے ذریعے جان بچائی۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف مزید کارروائی کی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا، آبنائے ہرمز جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل کا اہم راستہ تھی، اس لیے اس کی بندش سے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے کئی بندرگاہی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں جبکہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اردن میں امریکی اتحادی کے ایک فوجی اڈے پر کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگرز کو تباہ کر دیا گیا۔

 متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا، قطر نے ایک میزائل حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بحرین میں سائرن بجائے گئے اور دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدوں کی پابندی دونوں جانب سے ہونی چاہیے۔ 

اسی دوران عمان میں ایرانی اور عمانی حکام کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے محفوظ نظام اور کشیدگی میں کمی کے لیے تکنیکی اور سیاسی سطح پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ثالثی کی یہ کوششیں کسی پیشرفت کا باعث بن سکیں گی یا نہیں۔