ایک نیوز:مشرق وسطیٰ میں خطے کی صورتحال کے باعث ایندھن کی لاگت بڑھنے سے پاکستان میں بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ جبکہ بجلی کی مجموعی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں خطے کی صورتحال کے باعث ایندھن کی لاگت میں اضافے سے پاکستان میں بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ گئی، جبکہ بجلی کی پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بجلی کی پیداواری لاگت میں گزشتہ سال جون کے مقابلے 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بجلی کی مجموعی پیداوار 2.5 فیصد کم ہو گئی۔
رواں سال جون میں بجلی کی مجموعی پیداوار 13 ارب 41 کروڑ 30 لاکھ یونٹس رہی، جبکہ گزشتہ سال جون میں مجموعی پیداوار 13 ارب 74 کروڑ 40 لاکھ یونٹس تھی۔
درآمدی ایل این جی سے بجلی کی لاگت گزشتہ سال کے مقابلے 62 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ آر ایل این جی سے بجلی کی فی یونٹ لاگت 21 روپے 87 پیسے سے بڑھ کر 35 روپے 51 پیسے تک پہنچ گئی۔
اسی عرصے کے دوران درآمدی گیس سے بجلی کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جون 2026 میں درآمدی گیس سے 1 ارب 44 کروڑ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ جون 2025 میں یہ پیداوار 2 ارب 21 کروڑ 60 لاکھ یونٹس تھی۔
جون 2026 میں ایران سے 4 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی خریدی گئی، جبکہ ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی کی فی یونٹ لاگت 27 روپے 66 پیسے رہی۔ درآمد شدہ بجلی کے نرخوں میں گزشتہ سال کے مقابلے 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں تقریباً 21 فیصد اضافہ ہوا اور پیداوار 1 ارب 69 کروڑ 90 لاکھ یونٹس رہی۔
اسی عرصے کے دوران مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 10 فیصد کم ہوئی، جبکہ جون 2026 میں مقامی کوئلے سے 1 ارب 35 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔