جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے عمران خان سے ملاقات اور علاج سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی، عدالت نے بانئ پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقاتوں، بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا اور آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل حکام کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔
دوران سماعت جسٹس شاہد وحید نے کہا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سوال کیا کہ آئندہ سماعت سے قبل تمام ریکارڈ جمع کروایا جائے، ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو خفیہ نہیں رہے گا، بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟
جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہو گی۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں، ان کا بنیادی حق ہے، ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے، اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ ہمیں بانئ پی ٹی آئی کا مکمل ریکارڈ دیں، سمری نہیں چاہیے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے کہا کہ آپ کی رپورٹ میں لکھا ہوا انجیوگرافی کرانی ہے، کیا جیل میں انجیوگرافی ہو سکتی ہے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ باہر اسپتال سے ہو سکتی ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانئ پی ٹی آئی کی نہ نبض نارمل ہے، نہ ہی دل، میڈیکل رپورٹس کے مطابق ان کے وائیٹل آرگنز متاثر ہونا شروع ہو گئے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ 3 سال میں بانئ پی ٹی آئی سے بہنوں کی 48 ملاقاتیں کروائی گئیں۔
جس کے بعد سپریم کورٹ نے بانئ پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات طلب کر لیں اور 3 سال میں ہونے والی ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔
عدالت نے بانئ پی ٹی آئی سے ملاقات کے کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی۔