ویب ڈیسک:برطانوی سٹارٹ اپ کمپنی ایسے سیٹلائٹس پر کام کر رہی ہے جس میں ٹھوس دھاتوں کو بطور ایندھن استعمال کیا جائے گا۔
زمین کے اطراف سیٹلائٹس کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ، ان کے علاوہ غیر فعال مصنوعی سیارچوں کی بڑی تعداد بھی زمین کے گرد موجود ہے، جن میں سے بعض ایٹماسفیئر میں جل جاتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہی خلاء میں گھوم رہے ہیں اور زمین پر گرنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔
اس خلائی ملبے کے زمین پر گرنے کے بڑھتے خطرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے برطانوی کمپنی میگ ڈرائیو کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اس سال کے اگلے حصے میں اسپیس کرافٹ کا ایک نیا پروپلژن سسٹم لانچ کرنے جا رہی ہے جو ٹھوس دھات سے چلے گا۔
میگ ڈرائیو کے شریک بانی مارک سٹوکس نے کہا کہ کمپنی کچھ ایسی ٹیکنالوجی بنانا چاہتی تھی جو خلائی صنعت میں انسانیت کے معاملے کو آگے بڑھائے۔
انہوں نے کہا کہ ٹھوس دھاتی پروپلژن سسٹم کا استعمال سیٹلائٹس کو 10 گُنا بہتر چلنے والے کے ساتھ خلاء میں کچرے میں 10 گُنا کمی کا سبب بنے گا۔
میگ ڈرائیو اسپیس تھرسٹرز کے تین ورژن پر کام کر رہا ہے اور کیوں کہ یہ ٹھوس دھات پر چلتے ہیں، اس لیے ایسا ممکن ہے کہ ایک روز ان سپیس کرافٹس کو براہ راست خلاء سے ملبہ جمع کر ایندھن کیلئے استعمال کیا جا سکے گا۔